ابنا: اتوار (20-11-2011) کی صبح ٦بجے محلہ مروہائی، اندرون کوچی بازار پشاور میں واقع امام بارگاہ دیرعباس سے متصلہ سبیل پرمحرم الحرام کی آمدپرکام کاج کی غرض تالا کھولنے کے بعد دہشت گرد عناصر سپاہ صحابہ کے چند افراد کی جانب سے بدزبانی، لڑائی اور فائرنگ کی گئی، دہشت گردوں کے جواب میں جوانوں نے اپنے دفاع میں جوابی کاروائی کی. اس کاروائی میں حملہ آوروں کا ایک فرد غلام فاروق حیدر موقع پرہلاک جبکہ اس کا بیٹا حسنین رضا شدیدزخمی ہوگیا ۔
رپورٹ کے مطابق سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کی اس کاروائی کے بعدسپاہ صحابہ کے ١٠٠سے ١٥٠ آدمیوں نے امام بارگاہ کے علم مبارک اور منبر کو نذر آتش کردیا، پولیس کی تاخیری کاروائی کے بعد حملہ آوروں کو امام بارگاہ سے نکالا گیا۔ رپورٹ کے مطابق زخمی حسنین رضانے اپنے باپ کی ایف ،آئی، آر امام بارگاہ کے متولی محمد حسین حسینی اور ان کے دو بیٹوں محمدعسکر حسینی اور محمد محسن حسینی کے نام پر درج کروائی۔
آخری اطلاعات کے مطابق غلام فاروق کا بیٹا حسنین رضا بھی جو اس حملے میں زخمی ہوا تھا منگل کے روز زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا۔
............
/169